مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

2026 کرکٹ پچ کی پیمائش: 7 اہم راز

کرکٹ پچ کی پیمائش کا بنیادی معیار 22 گز، یعنی 20.12 میٹر لمبائی اور 10 فٹ، یعنی 3.05 میٹر چوڑائی ہے۔ یہ پیمائش بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین کے مطابق میدان کے دونوں وکٹوں ک...

31 اکتوبر، 2026 5 min read
2026 کرکٹ پچ کی پیمائش: 7 اہم راز
❦

2026 کرکٹ پچ کی پیمائش: 7 اہم راز

کرکٹ پچ کی پیمائش کا بنیادی معیار 22 گز، یعنی 20.12 میٹر لمبائی اور 10 فٹ، یعنی 3.05 میٹر چوڑائی ہے۔ یہ پیمائش بین الاقوامی کرکٹ کونسل اور میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین کے مطابق میدان کے دونوں وکٹوں کے درمیان یکساں رہتی ہے، چاہے مقابلہ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا یا انگلینڈ میں ہو۔ پچ کے ہر سرے پر وکٹ کی لکیر کے پیچھے 4 فٹ، یعنی 1.22 میٹر کی پاپنگ کریز ہوتی ہے، جبکہ بولنگ کریز 8 فٹ 8 انچ لمبی ہوتی ہے۔ ٹرف پچ میں نمی، ڈھلوان اور مٹی کی سختی بھی گیند کے اچھال پر اثر ڈالتی ہے؛ اس لیے صرف فیتہ لگانا کافی نہیں۔ درست نتیجے کے لیے پہلے مرکز کی لکیر قائم کریں، پھر 22 گز کا فاصلہ ناپیں، دونوں سروں کی کریز چیک کریں اور آخر میں سطح کا توازن دیکھیں۔ یہی طریقہ قابلِ اعتماد کرکٹ پچ کی پیمائش بناتا ہے۔

حتمی بات: درست پیمائش صرف 22 گز نہیں

بنیادی جواب صاف ہے: معیاری کرکٹ پچ 22 گز لمبی اور 10 فٹ چوڑی ہوتی ہے، لیکن کھیل کے قابل پچ بنانے کے لیے اس کے گرد موجود کریز، وکٹ کے اسٹمپس، سطح کی ہمواری، ڈھلوان اور محفوظ رن اپ بھی درست ہونا چاہیے۔ کئی مقامی میدانوں میں 22 گز کا فاصلہ درست نکل آتا ہے، مگر پچ کا مرکز وکٹوں کے عین درمیان نہیں ہوتا؛ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک اینڈ سے گیند کا زاویہ بدل جاتا ہے اور بلے باز کو غیر ضروری مشکل پیش آتی ہے۔ میریلی بون کرکٹ کلب، جسے عموماً ایم سی سی کہا جاتا ہے، قانون 6 میں پچ کو مستطیل رقبے کے طور پر بیان کرتا ہے، جبکہ آئی سی سی کے کھیل کے قوانین بین الاقوامی مقابلوں میں اسی بنیادی معیار کو استعمال کرتے ہیں۔ بیٹنگ نوٹس پر شائع ہونے والے پچ جائزوں میں بھی یہی فرق اہم ہے: لمبائی درست ہونا ایک شرط ہے، مکمل توازن دوسری۔ اس لیے پیمائش کے ساتھ سمت، سطح اور کریز کی سیدھ بھی لازماً درج کریں۔

سبز کرکٹ میدان میں سفید کریزوں کے ساتھ 22 گز کی پچ، صبح کی ہلکی دھوپ اور واضح وکٹیں

اگر آپ اس موضوع کو عملی میدان کی تیاری سے جوڑنا چاہتے ہیں تو کرکٹ گراؤنڈ تیار کرنے کا مکمل طریقہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔

مزید مفید کرکٹ رہنمائی کے لیے یہ راستہ اختیار کریں:

مزید جانیں

کھلاڑی حقیقت میں کیا دیکھتے ہیں؟

کھلاڑی کو پچ پر صرف 22 گز نظر نہیں آتے؛ وہ گیند کا اچھال، کریز کا زاویہ، وکٹ کی اونچائی، قدم رکھنے کی جگہ اور رن اپ کی مضبوطی محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے دو میدان ایک جیسی لمبائی رکھنے کے باوجود مختلف کھیل پیش کر سکتے ہیں۔ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ، لندن میں استعمال ہونے والی تاریخی پچیں اور قذافی اسٹیڈیم لاہور کی پچیں مثال کے طور پر الگ مٹی، موسم اور دیکھ بھال کی وجہ سے مختلف رویہ دکھاتی ہیں، اگرچہ دونوں میں بنیادی پیمائش وہی رہتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے میدانوں میں گرمی، آب پاشی اور مٹی کی قسم پچ کی رفتار بدل سکتی ہے؛ بھارت کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں سمندری نمی بھی اثر ڈالتی ہے۔

نوجوان کھلاڑی کے لیے سب سے نمایاں نشان تین کریزیں ہیں: بولنگ کریز، پاپنگ کریز اور واپسی کریز۔ بولنگ کریز کے درمیان وکٹ کے تین اسٹمپس نصب ہوتے ہیں، اور پاپنگ کریز اس بات کا فیصلہ کرتی ہے کہ بلے باز محفوظ علاقے میں پہنچا یا نہیں۔ پاپنگ کریز بولنگ کریز سے 4 فٹ آگے ہوتی ہے، جبکہ واپسی کریز دونوں اطراف اس وقت مدد دیتی ہے جب گیند باز کا رن اپ ایک طرف سے ہو۔ قانون کی یہی باریکیاں نو بال، رن آؤٹ اور بلے باز کے محفوظ ہونے کے فیصلے کو براہِ راست متاثر کرتی ہیں۔ کرکٹ کریز اور وکٹ کی لائنوں کی وضاحت پڑھنے سے یہ ترتیب مزید واضح ہو جاتی ہے۔

پیمائش کرتے وقت ایک عام مگر خطرناک غلطی یہ ہے کہ فیتہ وکٹ کے اندرونی کنارے سے شروع کیا جاتا ہے۔ درست طریقے میں پچ کا مرکزی محور پہلے نشان زد کیا جاتا ہے، پھر دونوں وکٹوں کے مرکزی اسٹمپس کے درمیان فاصلہ ناپا جاتا ہے۔ اگر ایک سرے کی وکٹ صرف 2 یا 3 سینٹی میٹر بھی دائیں یا بائیں ہو تو گیند کی لائن، امپائر کا زاویہ اور فیلڈنگ کی ترتیب متاثر ہو سکتی ہے۔ ایم سی سی کے قانون 8 کے مطابق وکٹ کی مجموعی چوڑائی 9 انچ، یعنی تقریباً 22.86 سینٹی میٹر، ہوتی ہے؛ اس لیے مرکز کی غلطی کو معمولی سمجھنا مناسب نہیں۔

پچ کی پیمائش میں سب سے اہم 3 چیزیں کون سی ہیں؟

کرکٹ پچ کی پیمائش میں سب سے اہم تین چیزیں لمبائی، چوڑائی اور کریز کی سیدھ ہیں۔ معیاری لمبائی 22 گز، چوڑائی 10 فٹ، اور ہر اینڈ پر پاپنگ کریز بولنگ کریز سے 4 فٹ آگے ہوتی ہے۔ ان تینوں کی درستگی کے بغیر سطح اچھی ہونے کے باوجود پچ قانون کے مطابق نہیں رہتی۔

1۔ 22 گز کی مرکزی لمبائی

22 گز کو عام طور پر 66 فٹ یا 20.12 میٹر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک چھوٹی مگر اہم بات رہ جاتی ہے: 22 گز پچ کے مکمل کھیلنے والے حصے کا فاصلہ ہے، نہ کہ پورے رن اپ یا باؤنڈری کا۔ پیمائش کے لیے مضبوط فولادی فیتہ، لیزر فاصلہ پیما یا سروے کا آلہ استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر ہر آلے کی صفر کی جگہ ایک ہی ہونی چاہیے۔ اگر پہلے سرے پر فیتہ اسٹمپس کے مرکز سے شروع ہوا اور دوسرے سرے پر اسٹمپس کے بیرونی کنارے تک پہنچا، تو نتیجہ بظاہر درست مگر حقیقت میں غلط ہوگا۔

میدان کی سمت بھی نوٹ کریں۔ شمال جنوب کی سمت عموماً اس لیے پسند کی جاتی ہے کہ سورج بلے باز اور گیند باز کی آنکھوں میں کم آئے، مگر ہر مقام پر یہی ممکن نہیں۔ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم، لاہور کے قذافی اسٹیڈیم اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں عمارتوں، روشنیوں اور ہوا کی سمت کی وجہ سے عملی فیصلہ مختلف ہو سکتا ہے۔ پیمائش کے ریکارڈ میں تاریخ، مقام، موسم اور استعمال شدہ آلے کا نام لکھیں؛ یہ چھوٹی تفصیل بعد میں پچ کے رویے کا موازنہ کرنے میں بہت کام آتی ہے۔

2۔ 10 فٹ چوڑی کھیلنے والی سطح

پچ کی معیاری چوڑائی 10 فٹ، یعنی تقریباً 3.05 میٹر ہے۔ یہ چوڑائی صرف درمیان کے خشک مستطیل حصے کے لیے نہیں سمجھی جانی چاہیے؛ کناروں پر گھاس، مٹی کا ٹوٹنا یا رولر کے باہر رہ جانے والا حصہ کھیل کے معیار کو بدل سکتا ہے۔ اگر ایک جانب کی سطح نرم اور دوسری جانب سخت ہو تو گیند کا اچھال غیر متوازن ہوگا، خاص طور پر ٹی/20 میں جہاں بلے باز تیز شاٹس اور قدموں کی حرکت پر انحصار کرتے ہیں۔

مقابلے کی سطح کے مطابق دیکھ بھال بھی بدلتی ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں پچ کو کئی دن تک مستحکم رہنا ہوتا ہے، جبکہ پاکستان سپر لیگ، انڈین پریمیئر لیگ اور مقامی کلب کرکٹ میں مختصر وقت میں قابلِ استعمال سطح تیار کی جاتی ہے۔ چوڑائی ناپنے کے بعد دونوں کناروں سے مرکز تک فاصلہ الگ الگ چیک کریں؛ اگر ایک کنارہ مرکز سے 5 فٹ اور دوسرا 4 فٹ 10 انچ ہو تو کل چوڑائی شاید 9 فٹ 10 انچ نکلے، جو نظر سے چھپی ہوئی خرابی ہے۔ بارش کے بعد دوبارہ پیمائش کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ مٹی سکڑ سکتی ہے۔

3۔ کریز، اسٹمپس اور سیدھ

بولنگ کریز 8 فٹ 8 انچ، یعنی 2.64 میٹر لمبی ہوتی ہے، جبکہ پاپنگ کریز کم از کم 12 فٹ، یعنی تقریباً 3.66 میٹر لمبی نشان زد کی جاتی ہے۔ پاپنگ کریز بولنگ کریز کے متوازی اور اس سے 4 فٹ آگے ہونی چاہیے۔ واپسی کریز بولنگ کریز کے دونوں سروں سے عمودی زاویے پر کھینچی جاتی ہے، اور اس کی لمبائی کم از کم 8 فٹ 8 انچ ہوتی ہے۔

یہاں اصل عملی سبق یہ ہے کہ سفید لکیر دیکھ کر مطمئن نہ ہوں۔ لکیر پچ کے محور پر 90 درجے کے زاویے سے ہونی چاہیے، ورنہ بلے باز کا محفوظ علاقہ ایک طرف زیادہ اور دوسری طرف کم بن جائے گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈومیسٹک گراؤنڈز، ایم سی سی کے قوانین اور آئی سی سی کے مقابلہ جاتی تقاضوں میں بنیادی ترتیب ایک ہی ہے، تاہم رنگ، چوڑائی اور دیکھ بھال کے مقامی طریقے مختلف ہو سکتے ہیں۔ پینٹ لگانے سے پہلے چاک، ڈوری اور گونیا سے عارضی نشان بنانا عموماً بہتر رہتا ہے؛ غلطی ہو تو مستقل سفید لکیر سے پہلے اسے درست کیا جا سکتا ہے۔

اہم پیمائشیں ایک جگہ محفوظ رکھنے کے لیے یہ مختصر فہرست استعمال کریں:

  1. وکٹوں کے مرکزی اسٹمپس کے درمیان فاصلہ: 22 گز یا 20.12 میٹر۔
  2. پچ کی چوڑائی: 10 فٹ یا 3.05 میٹر۔
  3. پاپنگ کریز کا فاصلہ: بولنگ کریز سے 4 فٹ یا 1.22 میٹر۔
  4. بولنگ کریز کی لمبائی: 8 فٹ 8 انچ یا 2.64 میٹر۔
  5. وکٹ کی مجموعی چوڑائی: 9 انچ یا تقریباً 22.86 سینٹی میٹر۔

اب پیمائش کو عملی مثالوں اور میدان کی تیاری سے ملانے کا وقت ہے:

مزید جانیں

کن خاص صورتوں میں پیمائش بدل سکتی ہے؟

عام معیاری پچ 22 گز لمبی رہتی ہے، مگر جونیئر کرکٹ، مصنوعی سطح، تربیتی میدان اور عارضی پچ میں مقامی مقابلے کے قوانین مختلف فاصلہ مقرر کر سکتے ہیں۔ بالغ مردوں کی بین الاقوامی کرکٹ کے لیے 22 گز بنیادی معیار ہے، جبکہ کم عمر کھلاڑیوں کے لیے عمر، قد اور حفاظتی ضرورت کے مطابق پچ مختصر کی جا سکتی ہے۔ اس لیے ہر میدان میں ایک ہی فیتہ استعمال کرنے سے پہلے مقابلے کے منتظمین کا قانون پڑھنا ضروری ہے۔

مصنوعی پچ پر ایک خاص مسئلہ یہ ہے کہ قالین یا فائبر کی سطح کی لمبائی 22 گز ہو سکتی ہے، مگر اس کے نیچے کنکریٹ یا مٹی کا بیس برابر نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں فاصلہ درست ہونے کے باوجود گیند ایک سرے سے زیادہ تیز اور دوسرے سے کم اچھل سکتی ہے۔ کنکریٹ بیس میں 1:100 سے زیادہ ڈھلوان بعض مقامات پر پانی نکالنے میں مدد دیتی ہے، مگر بہت زیادہ ڈھلوان بلے باز اور امپائر دونوں کے لیے مسئلہ بن سکتی ہے۔ یہ وہ عملی نکتہ ہے جو عام آن لائن پیمائشی فہرستوں میں اکثر غائب رہتا ہے: پچ کی افقی لمبائی درست ہونا، کھیل کی سطح کے برابر ہونے کی ضمانت نہیں۔

ایک اور نظر انداز شدہ مسئلہ نشان زد کرنے کا درجہ حرارت ہے۔ سخت گرمی میں چاک یا پینٹ جلد خشک ہو کر ٹوٹ سکتی ہے، جبکہ گیلی مٹی پر لگائی گئی لکیر پھیل سکتی ہے۔ صبح کے وقت نمی زیادہ ہو تو پاپنگ کریز کا نشان موٹا دکھائی دے سکتا ہے اور اصل کنارہ مبہم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے میدان کا عملہ عموماً رسی کو دونوں سروں پر کھینچ کر، مرکز سے فاصلہ ناپ کر اور پھر لائن کو دو مرحلوں میں پینٹ کرتا ہے۔ پہلے ہلکا نشان، پھر خشک ہونے کے بعد حتمی نشان؛ یہ معمولی احتیاط فیصلوں کے جھگڑے کم کر دیتی ہے۔

پیمائش کے لیے کون سے اوزار بہتر ہیں؟

فولادی فیتہ، نشان زد کرنے والی ڈوری، گونیا، پانی کی سطح، لیزر فاصلہ پیما اور چاک کا امتزاج سب سے قابلِ عمل انتخاب ہے۔ صرف موبائل فون کی پیمائش والی ایپ 22 گز کی حتمی تصدیق کے لیے کافی نہیں، کیونکہ درخت، روشنی اور زمین کی ناہمواری اشارے کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگر بجٹ اجازت دے تو لیزر آلہ لمبائی کی تیز جانچ کے لیے مفید ہے، مگر کریز کے زاویے کے لیے ڈوری اور گونیا اب بھی زیادہ قابلِ اعتماد رہتے ہیں۔

عملی ترتیب یوں رکھی جا سکتی ہے:

  • پہلے میدان کا مرکزی محور اور دونوں وکٹوں کے ممکنہ مراکز نشان زد کریں۔
  • 22 گز کا فاصلہ دو مرتبہ ناپیں، ایک بار ایک سمت سے اور دوسری بار مخالف سمت سے۔
  • دونوں وکٹوں کے اسٹمپس نصب کر کے ان کی چوڑائی اور عمودی حالت دیکھیں۔
  • بولنگ کریز، پاپنگ کریز اور واپسی کریز کو ڈوری سے سیدھا کریں۔
  • پانی کی سطح یا ہمواری کے آلے سے درمیان اور دونوں کناروں کا فرق درج کریں۔
  • بارش، رولنگ یا مٹی کی تبدیلی کے بعد پیمائش دوبارہ کریں۔

گراؤنڈ عملہ فولادی فیتے، ڈوری اور گونیا سے کرکٹ کریز کی درست سیدھ جانچ رہا ہے

مزید تکنیکی رہنمائی کے لیے کرکٹ پچ کی دیکھ بھال اور رولنگ کے اصول ملاحظہ کریں۔

عام غلطیاں کہاں ہوتی ہیں؟

سب سے عام غلطی پچ کی لمبائی کو باؤنڈری یا پورے مرکزی میدان کے ساتھ خلط ملط کرنا ہے۔ کرکٹ پچ صرف 22 گز کا مستطیل کھیلنے والا حصہ ہے؛ باؤنڈری کا فاصلہ ون ڈے، ٹی/20 یا ٹیسٹ میدان کے مطابق الگ ہو سکتا ہے، اور آئی سی سی کے مقابلہ جاتی ضوابط میں میدان کے کم از کم اور زیادہ سے زیادہ سائز کی شرائط بھی الگ بیان کی جاتی ہیں۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ وکٹ کا مرکز معلوم کیے بغیر اسٹمپس گاڑ دیے جاتے ہیں، جس سے پچ کا محور فیلڈ کی مرکزی سمت سے ہٹ جاتا ہے۔

تیسری غلطی کریز کی چوڑائی اور لمبائی کو ایک ہی چیز سمجھنا ہے۔ پاپنگ کریز 12 فٹ تک پھیلی ہوئی لکیر ہے، جبکہ بولنگ کریز 8 فٹ 8 انچ کی لکیر ہے؛ دونوں کا مقصد اور مقام الگ ہے۔ چوتھی خرابی پینٹ کی موٹائی ہے، کیونکہ بہت چوڑی لکیر بلے باز کے لیے محفوظ حد کو مبہم بنا سکتی ہے۔ پانچویں مسئلہ وکٹ کی عمودی حالت ہے: اگر اسٹمپس زمین میں ٹیڑھے ہوں تو پیمائش درست ہونے کے باوجود وکٹ کا قانونی نشان خراب ہو جاتا ہے۔

بین الاقوامی معیار کا حوالہ لیتے وقت اصل دستاویز دیکھنا بہتر ہے۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین میں پچ، کریز اور وکٹ سے متعلق بنیادی دفعات موجود ہیں، جبکہ آئی سی سی کھیل کے ضوابط مقابلہ جاتی حالات میں اضافی شرائط فراہم کرتے ہیں۔ ایم سی سی قانون کی روح کو یوں سمیٹا جا سکتا ہے: “پچ دونوں وکٹوں کے درمیان مستطیل رقبہ ہے۔” اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ سطح کی ہر خرابی قابلِ قبول ہے؛ مستطیل کی حد، مرکز اور سیدھ بھی اسی تعریف کا حصہ ہیں۔

پیمائش مکمل ہونے کے بعد میدان کے ریکارڈ میں یہ معلومات درج کریں: مقام، تاریخ، پچ کی قسم، آخری رولنگ کا وقت، بارش کی مقدار، مٹی کی نمی، آلے کا نام اور پیمائش کرنے والے عملے کے دستخط۔ یہ تفصیل خاص طور پر اس وقت کام آتی ہے جب ایک ہی میدان میں قومی ٹی/20، کلب میچ اور نوجوانوں کا مقابلہ الگ دنوں میں کھیلا جائے۔ بیٹنگ نوٹس کے میچ جائزوں میں پچ کو “سست” یا “دو رفتار والی” کہا جاتا ہے، مگر ایسی زبان کو سمجھنے کے لیے پیمائش اور دیکھ بھال کا ریکارڈ زیادہ قابلِ قدر ہے۔

اگر آپ میدان کی تیاری کے بعد کھیل کی حکمت عملی بھی سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ معلومات دیکھیں:

مزید جانیں

فیصلہ: پیمائش کا قابلِ اعتماد طریقہ کیا ہے؟

قابلِ اعتماد کرکٹ پچ کی پیمائش تین مرحلوں میں مکمل ہوتی ہے: پہلے مرکز قائم کریں، پھر 22 گز لمبائی اور 10 فٹ چوڑائی ناپیں، آخر میں کریز، وکٹ اور سطح کی سیدھ کی تصدیق کریں۔ صرف فیتہ استعمال کرنے سے کام ادھورا رہتا ہے، کیونکہ 4 فٹ کی پاپنگ کریز، 8 فٹ 8 انچ کی بولنگ کریز، 9 انچ چوڑی وکٹ اور سطح کی ڈھلوان بھی کھیل کے نتیجے کو بدل سکتے ہیں۔ لارڈز، قذافی اسٹیڈیم، نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور دوسرے بڑے میدانوں میں بنیادی قانون ایک ہے، مگر موسم، مٹی اور دیکھ بھال کے باعث پچ کا برتاؤ الگ رہتا ہے۔

عملی طور پر بہترین طریقہ یہ ہے کہ پیمائش کم از کم دو افراد کریں، ہر اہم فاصلہ دو بار چیک کریں اور حتمی سفید لکیر سے پہلے عارضی چاک استعمال کریں۔ اگر آپ مقامی کلب، اسکول یا پیشہ ور میدان کے لیے پچ تیار کر رہے ہیں تو مقابلے کی سطح کے قوانین بھی ساتھ رکھیں۔ درست اعداد، صاف ریکارڈ اور ہموار سطح مل کر قابلِ اعتماد پچ بناتے ہیں؛ باقی دعوے زیادہ تر شور ہوتے ہیں، یقین کریں یا نہ کریں — میں واقعی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔

اپنے اگلے گراؤنڈ منصوبے کے لیے آخری عملی رہنمائی یہاں حاصل کریں:

مزید جانیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: کرکٹ پچ کی معیاری پیمائش کیا ہے؟

جواب: معیاری کرکٹ پچ 22 گز، یعنی 66 فٹ یا 20.12 میٹر لمبی، اور 10 فٹ یا تقریباً 3.05 میٹر چوڑی ہوتی ہے۔ یہ معیار بالغوں کی زیادہ تر مسابقتی کرکٹ میں استعمال ہوتا ہے، جس میں ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی/20 شامل ہیں۔ پچ کے دونوں سروں پر وکٹیں نصب ہوتی ہیں، جبکہ پاپنگ کریز بولنگ کریز سے 4 فٹ آگے بنائی جاتی ہے۔ جونیئر کرکٹ میں منتظمین عمر کے مطابق مختصر پچ مقرر کر سکتے ہیں، اس لیے ہر مقابلے کے قواعد پہلے دیکھنا ضروری ہے۔

سوال: کرکٹ پچ کی پیمائش کیسے کی جاتی ہے؟

جواب: پہلے دونوں وکٹوں کے مرکزی اسٹمپس کے درمیان مرکزی محور قائم کر کے 22 گز کا فاصلہ دو مرتبہ ناپا جاتا ہے۔ اس کے بعد پچ کی 10 فٹ چوڑائی، بولنگ کریز، پاپنگ کریز اور واپسی کریز کو ڈوری، گونیا اور فولادی فیتے سے نشان زد کیا جاتا ہے۔ لیزر فاصلہ پیما لمبائی کی جانچ میں مدد دے سکتا ہے، مگر کریز کے زاویے کے لیے سیدھی ڈوری ضروری رہتی ہے۔ بارش یا رولنگ کے بعد دوبارہ تصدیق کرنا بہتر ہے۔

سوال: پاپنگ کریز اور بولنگ کریز میں کیا فرق ہے؟

جواب: بولنگ کریز وکٹ کے عین سامنے 8 فٹ 8 انچ لمبی لکیر ہے، جبکہ پاپنگ کریز اس سے 4 فٹ آگے واقع ہوتی ہے اور بلے باز کے محفوظ علاقے کی حد بتاتی ہے۔ بولنگ کریز کے درمیان تین اسٹمپس نصب ہوتے ہیں، مگر پاپنگ کریز رن آؤٹ، نو بال اور بلے باز کے گراؤنڈ میں پہنچنے کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دونوں کریزیں ایک دوسرے کے متوازی ہونی چاہییں۔ ان کی غلط سیدھ کھیل کے فیصلوں میں غیر ضروری تنازع پیدا کر سکتی ہے۔

سوال: کرکٹ پچ کی پیمائش میں عام مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے؟

جواب: عام مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فیتہ وکٹ کے مرکز کے بجائے اسٹمپس کے کنارے سے شروع کیا جائے یا کریز کا زاویہ درست نہ رکھا جائے۔ سطح کی ڈھلوان، بارش کے بعد مٹی کا سکڑنا اور غلط موٹائی والی پینٹ بھی پیمائش کو متاثر کر سکتی ہے۔ 22 گز درست ہونے کے باوجود اگر پچ کا ایک کنارہ نرم اور دوسرا سخت ہو تو گیند کا اچھال مختلف ہوگا۔ اس لیے لمبائی کے ساتھ مرکز، چوڑائی اور ہمواری بھی درج کریں۔

سوال: کرکٹ پچ کی پیمائش کے لیے کون سے اوزار درکار ہیں؟

جواب: بنیادی پیمائش کے لیے فولادی فیتہ، نشان زد کرنے والی ڈوری، گونیا، چاک اور پانی کی سطح کافی ہیں۔ بڑے میدانوں میں لیزر فاصلہ پیما، زمین کی ہمواری جانچنے والا آلہ اور نمی ناپنے والا آلہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موبائل ایپ ابتدائی اندازہ دے سکتی ہے، مگر حتمی مسابقتی پیمائش کے لیے اسے واحد ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ کم از کم دو افراد سے پیمائش کرانا اور ہر اہم فاصلے کو دوبارہ چیک کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

سوال: مصنوعی کرکٹ پچ بھی 22 گز کی ہوتی ہے؟

جواب: بالغوں کی معیاری مصنوعی کرکٹ پچ بھی عموماً 22 گز لمبی اور 10 فٹ چوڑی بنائی جاتی ہے۔ فرق سطح کے نیچے موجود بیس، مصنوعی قالین، ربڑ، کنکریٹ یا مٹی کی ساخت میں ہوتا ہے، جس سے گیند کے اچھال اور رفتار پر اثر پڑتا ہے۔ مصنوعی پچ میں پانی کے نکاس اور سطح کی ڈھلوان کو خاص توجہ چاہیے، کیونکہ فاصلہ درست ہونے کے باوجود ناہموار بیس کھیل کو خراب کر سکتا ہے۔ تنصیب سے پہلے مقابلے کے منتظمین کے مقامی قواعد ضرور دیکھیں۔

سوال: کرکٹ پچ کی پیمائش کے بعد کیا چیک کرنا چاہیے؟

جواب: پیمائش کے بعد وکٹوں کا مرکز، اسٹمپس کی عمودی حالت، کریز کی سیدھ، سطح کی ہمواری اور پانی کے نکاس کو چیک کرنا چاہیے۔ ریکارڈ میں مقام، تاریخ، موسم، پچ کی قسم، آخری رولنگ اور استعمال شدہ آلے کا نام درج کریں۔ بارش، شدید رولنگ یا مٹی کی تبدیلی کے بعد دوبارہ پیمائش ضروری ہو سکتی ہے۔ اس منظم ریکارڈ سے پاکستان کرکٹ بورڈ، مقامی کلب یا اسکول کا گراؤنڈ عملہ مختلف میچوں میں پچ کے رویے کا بہتر موازنہ کر سکتا ہے۔

§
❦

بیٹنگ نوٹس · The Midnight Archive · An Exhibition of Thought

متعلقہ مضامین