کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون: وہ بات جو کوئی نہیں بتاتا
ایل بی ڈبلیو قانون کے تحت بلے باز اس وقت آؤٹ ہو سکتا ہے جب گیند بلے سے ٹکرائے بغیر اس کے جسم سے لگے، گیند وکٹوں کی سمت جا رہی ہو، اور مخصوص شرائط پوری ہوں۔ کرکٹ میں یہ فیصلہ میدان کے امپائر، تیسرے امپ...
کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون: وہ بات جو کوئی نہیں بتاتا
ایل بی ڈبلیو قانون کے تحت بلے باز اس وقت آؤٹ ہو سکتا ہے جب گیند بلے سے ٹکرائے بغیر اس کے جسم سے لگے، گیند وکٹوں کی سمت جا رہی ہو، اور مخصوص شرائط پوری ہوں۔ کرکٹ میں یہ فیصلہ میدان کے امپائر، تیسرے امپائر اور ڈی آر ایس نظام کے ذریعے کیا جاتا ہے، جبکہ میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین عالمی مقابلوں میں بنیادی حوالہ سمجھے جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ گیند کا پچ ہونا، وکٹ کے سامنے جسم کا مقام، بلے سے رابطہ، اور گیند کا وکٹوں سے ٹکرانے کا امکان سب الگ الگ جانچے جاتے ہیں۔ اگر گیند ٹانگ سے پہلے بلے سے لگ جائے تو ایل بی ڈبلیو نہیں بنتا، چاہے گیند بعد میں وکٹ اڑا دیتی۔ اسی طرح آف اسٹمپ سے باہر پچ ہونے والی گیند پر عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ فیصلہ سمجھنے کے لیے پہلے گیند کی سمت، پھر جسم کی پوزیشن اور آخر میں بلے سے رابطہ دیکھیں۔

کرکٹ کے اس نازک قانون کو سمجھنے کے بعد میچ کے فیصلوں کا جائزہ زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر جب بیٹنگ نوٹس پر میچ جائزے، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اور حکمت عملی کا مطالعہ کیا جائے۔
مرحلہ ۱: بنیادی سوال، ایل بی ڈبلیو کیا ہے؟
ایل بی ڈبلیو کا مطلب ٹانگ سے وکٹ کے سامنے آؤٹ ہونا ہے، مگر قانون صرف ٹانگ تک محدود نہیں بلکہ جسم کے کسی بھی حصے پر لاگو ہو سکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ گیند بلے سے پہلے جسم سے ٹکرائے اور امپائر کے مطابق وہ گیند وکٹوں کو لگ سکتی تھی۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون ۳۶ میں یہی بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے، جبکہ بین الاقوامی میچوں میں ڈی آر ایس اسی فیصلے کو گیند کے راستے سے دوبارہ جانچتا ہے۔
ایل بی ڈبلیو دراصل ایک مکمل سلسلہ ہے، ایک اکیلا واقعہ نہیں۔ امپائر کو دیکھنا ہوتا ہے کہ گیند نو بال تو نہیں تھی، گیند کہاں پچ ہوئی، بلے باز کا جسم کہاں تھا، رابطہ بلے سے پہلے ہوا یا بعد میں، اور گیند وکٹوں کے درمیان سے گزر رہی تھی یا نہیں۔ اگر ان میں سے ایک بنیادی شرط بھی پوری نہ ہو تو اپیل ناکام ہو سکتی ہے، چاہے گیند پیڈ پر زور سے لگی ہو۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قوانین میں قانون ۳۶ کی اصل تشریح دستیاب ہے۔
یہاں ایک عملی نکتہ اکثر نظرانداز ہو جاتا ہے: گیند کا پیڈ سے لگنا خود آؤٹ ہونے کا ثبوت نہیں۔ گیند اگر آف اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی ہو، یا بلے باز نے پہلے بلے سے اسے چھوا ہو، تو زور دار اپیل بھی بے فائدہ رہتی ہے۔ اسی لیے بیٹنگ کرتے ہوئے صرف گیند کے دردناک رابطے پر نہیں، بلکہ گیند کے پورے سفر پر توجہ دیں۔
- گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے۔
- گیند بلے سے پہلے جسم سے لگنی چاہیے۔
- گیند کا پچ ہونا قانون کے مطابق قابلِ قبول جگہ پر ہونا چاہیے۔
- گیند وکٹوں کو لگنے کے امکان میں ہونی چاہیے۔
- بلے باز کو مقررہ استثناؤں کے علاوہ شاٹ کھیلنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔
مرحلہ ۲: گیند کہاں پچ ہوئی، یہ کیسے طے ہوتا ہے؟
گیند کے پچ ہونے کی جگہ ایل بی ڈبلیو فیصلے کا پہلا بڑا امتحان ہے، کیونکہ آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند عام حالات میں ایل بی ڈبلیو نہیں بناتی۔ اگر گیند مکمل طور پر وکٹوں کے درمیان یا آف اسٹمپ اور لیگ اسٹمپ کی حدود میں پچ ہو تو فیصلہ اگلی شرائط پر منتقل ہوتا ہے۔ تاہم گیند اگر بلے باز کے جسم سے لگنے سے پہلے بلے کو چھو چکی ہو تو پچ کی جگہ بے معنی ہو جاتی ہے۔
یہ اصول دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے مختلف زاویوں سے نظر آتا ہے۔ مثلاً دائیں ہاتھ کے بلے باز کے لیے آف اسٹمپ کے باہر سے اندر آنے والی گیند اکثر ایل بی ڈبلیو کے خطرے میں ہوتی ہے، جبکہ لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند بھی قانون کے مطابق قابلِ غور رہتی ہے۔ لیکن “لیگ اسٹمپ کے باہر” پچ ہونا اور “بلے باز کے جسم کے باہر” لگنا ایک ہی بات نہیں؛ یہی فرق کئی اپیلوں کو بدل دیتا ہے۔
ڈی آر ایس میں ہاک آئی یا گیند کی سمت دکھانے والا نظام پچ کے مقام کو الگ مرحلے کے طور پر دکھاتا ہے۔ ٹیکنالوجی معمولی زاویے کو صاف کر دیتی ہے، مگر اس کا فیصلہ بھی مقررہ اصولوں کے تابع ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ضوابط میں امپائر کے فیصلے، ریویو اور کھیل کے طریقہ کار کی تفصیل موجود ہے۔
پچ کے مقام کی فوری جانچ
۱۔ گیند آف اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی یا نہیں؟
۲۔ گیند وکٹوں کی لائن میں داخل ہوئی یا جسم سے باہر رہی؟
۳۔ رابطے سے پہلے بلے کا کنارہ لگا یا نہیں؟
۴۔ بلے باز شاٹ کھیلنے کی کوشش کر رہا تھا یا گیند چھوڑ رہا تھا؟
یہ ترتیب بے حد مفید ہے، کیونکہ اکثر ناظرین آخری تصویر دیکھ کر نتیجہ نکالتے ہیں۔ حقیقت میں پہلا سوال ہی کئی فیصلوں کو ختم کر دیتا ہے۔

مرحلہ ۳: جسم، بلہ اور وکٹ کی لائن کیسے پرکھی جاتی ہے؟
ایل بی ڈبلیو میں جسم کی پوزیشن رابطے کے لمحے پر دیکھی جاتی ہے، نہ کہ گیند لگنے کے بعد کی تصویر پر۔ امپائر اندازہ لگاتا ہے کہ اگر جسم درمیان میں نہ ہوتا تو گیند وکٹوں سے ٹکراتی یا نہیں۔ جسم میں ٹانگ، پیڈ، گھٹنا، ران، جسم کا دھڑ اور بعض صورتوں میں بازو بھی شامل ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ رابطہ قانون کے دائرے میں ہو۔
قانون کا مشکل حصہ “وکٹوں سے ٹکرانے کا امکان” ہے۔ گیند کو لازمی طور پر اسٹمپ سے ٹکرانا ثابت نہیں کرنا پڑتا؛ امپائر کو معقول یقین ہونا چاہیے کہ گیند وکٹوں کے حصے سے گزرتی۔ یہی وجہ ہے کہ گیند کے کنارے کو چھونے، بیلز کی اونچائی یا اسٹمپ کے بیرونی حصے کے قریب سے گزرنے جیسے مناظر میں فیصلے مشکل ہو جاتے ہیں۔ ڈی آر ایس میں گیند کا راستہ عموماً تین مرحلوں میں دکھایا جاتا ہے: پچ کا مقام، رابطے کا مقام، اور وکٹ پر متوقع اثر۔
ایک اہم اور کم بیان ہونے والی بات یہ ہے کہ “امپائرز کال” کا مطلب غلط فیصلہ نہیں ہوتا۔ جب گیند کا متوقع راستہ مقررہ حد کے قریب ہو اور ٹریکنگ نظام مکمل یقین نہ دے، تو میدان کا اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ وکی پیڈیا میں ایل بی ڈبلیو کی وضاحت بھی پچ، رابطے اور وکٹ کے راستے کو الگ شرائط کے طور پر بیان کرتی ہے۔ میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون کی روح یہی ہے کہ فیصلہ مجموعی شواہد سے بنتا ہے، ایک تصویر سے نہیں۔
“قانون ۳۶ کا مقصد جسم کے ذریعے وکٹ کی حفاظت کو روکنا ہے، نہ کہ ہر پیڈ سے لگنے والی گیند کو آؤٹ قرار دینا۔” اس اصول کو سادہ لفظوں میں یوں سمجھیں: پیڈ خود مجرم نہیں، وکٹ کی سمت روکنے کا عمل اصل مسئلہ ہے۔
مرحلہ ۴: ریویو، امپائر اور اپیل کیسے کام کرتے ہیں؟
ڈی آر ایس میں ایل بی ڈبلیو ریویو عموماً تین بنیادی سوالات سے گزرتا ہے: گیند کہاں پچ ہوئی، رابطہ بلے سے پہلے جسم پر ہوا یا نہیں، اور گیند وکٹوں سے ٹکراتی یا نہیں۔ پہلے مرحلے میں نو بال کی جانچ بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ نو بال ہونے کی صورت میں بلے باز ایل بی ڈبلیو آؤٹ نہیں ہوتا۔ تیسرے امپائر دستیاب الٹرا ایج، سنکو میٹر اور گیند کی سمت کے شواہد دیکھ سکتا ہے، مگر ہر فارمیٹ میں ٹیکنالوجی کا استعمال یکساں نہیں ہوتا۔
میدان میں اپیل کے بغیر امپائر عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیتا۔ فیلڈنگ ٹیم کو واضح اپیل کرنی ہوتی ہے، پھر امپائر اپنے مشاہدے اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔ ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ریویو کی تعداد، وقت اور طریقہ مقابلے کے قواعد کے مطابق بدل سکتے ہیں؛ اس لیے کسی مخصوص سیریز کے کھیلنے کی شرائط پہلے پڑھنا سمجھ داری ہے۔
ریویو لیتے وقت کپتان کو صرف گیند کے پیڈ سے ٹکرانے پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ بہتر سوال یہ ہے کہ کیا رابطے کا مقام اسٹمپ کی لائن میں تھا، کیا بلے کا کنارہ موجود تھا، اور کیا گیند کی رفتار وکٹ تک پہنچ رہی تھی؟ بعض اوقات سامنے سے دیکھنے پر صاف آؤٹ دکھائی دینے والی گیند ہاک آئی میں اسٹمپ کے باہر نکل جاتی ہے۔ اسی طرح گیند کے کنارے کا معمولی ثبوت پورا ریویو بدل سکتا ہے۔
- پہلے نو بال کی جانچ کریں۔
- پھر بلے اور پیڈ کے رابطے کا فرق دیکھیں۔
- پچ کے مقام کو دائیں یا بائیں ہاتھ کے بلے باز کے مطابق سمجھیں۔
- “امپائرز کال” کو لازماً تکنیکی غلطی نہ سمجھیں۔
- ریویو ضائع کرنے سے پہلے کپتان، وکٹ کیپر اور بولر کی رائے ملائیں۔
مرحلہ ۵: فیصلے کی تصدیق کیسے کی جائے؟
ایل بی ڈبلیو فیصلے کی تصدیق کے لیے ایک مختصر مگر منظم فہرست استعمال کریں۔ سب سے پہلے دیکھیں کہ گیند نو بال نہیں تھی؛ اس کے بعد معلوم کریں کہ بلے سے رابطہ پہلے ہوا یا جسم سے۔ تیسرا مرحلہ گیند کے پچ ہونے کی جگہ ہے، چوتھا رابطے کے وقت جسم کی پوزیشن، اور آخری مرحلہ گیند کا وکٹوں تک متوقع راستہ ہے۔ یہ پانچ مرحلے ٹیلی ویژن ری پلے، اسکور کارڈ اور ڈی آر ایس گرافک کو ایک ساتھ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرین کے لیے ایک مفید باریک نکتہ یہ ہے کہ رابطے کے لمحے بلے باز کا جسم حرکت میں ہو سکتا ہے، مگر فیصلہ اسی لمحے کی نسبت سے کیا جاتا ہے۔ گیند پیڈ سے لگنے کے بعد بلے باز کا اگلا قدم، جسم کا گھومنا یا بیٹ کا نیچے آنا پچھلے رابطے کو تبدیل نہیں کرتا۔ اسی طرح بیٹ اور پیڈ تقریباً ساتھ پہنچیں تو الٹرا ایج یا سنکو میٹر کا معمولی اشارہ اہم ہو سکتا ہے، لیکن شور، جوتے اور بیٹ کی زمین سے ٹکر بھی غلط فہمی پیدا کر سکتے ہیں۔
میچ جائزہ لکھتے وقت صرف “امپائر نے غلطی کی” کہنا کمزور تجزیہ ہے۔ بہتر رپورٹ میں پچ کا مقام، رابطے کی ترتیب، وکٹ کی لائن، ریویو کا نتیجہ اور “امپائرز کال” کی موجودگی الگ لکھی جاتی ہے۔ بیٹنگ نوٹس پر کسی ٹیسٹ یا ایک روزہ میچ کا جائزہ پڑھتے ہوئے یہی پانچ نکات تلاش کریں؛ اس سے جذباتی بحث کے بجائے قابلِ جانچ دلیل سامنے آتی ہے۔

میچ کے فیصلے کو خود جانچنے کے لیے یہ مختصر جدول ذہن میں رکھیں:
| سوال | اگر جواب ہاں ہو | اگر جواب نہیں ہو |
|---|---|---|
| کیا گیند نو بال نہیں تھی؟ | اگلے مرحلے پر جائیں | ایل بی ڈبلیو نہیں |
| کیا بلے سے پہلے جسم سے رابطہ ہوا؟ | اگلے مرحلے پر جائیں | ایل بی ڈبلیو نہیں |
| کیا پچ کا مقام قابلِ قبول تھا؟ | اگلے مرحلے پر جائیں | عموماً ایل بی ڈبلیو نہیں |
| کیا گیند وکٹوں کو لگتی؟ | آؤٹ ممکن ہے | ناٹ آؤٹ |
| کیا اپیل کی گئی؟ | امپائر فیصلہ دے گا | عام طور پر آؤٹ نہیں |
اگر آپ کرکٹ کے اعداد و شمار کو اسی طرح پڑھنا چاہتے ہیں تو میچ جائزوں اور کھلاڑیوں کے اعداد و شمار کا رہنما ملاحظہ کریں۔
عام خرابیوں کا حل کیا ہے؟
ایل بی ڈبلیو کے بارے میں سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ ہر پیڈ پر لگنے والی گیند کو آؤٹ سمجھ لیتے ہیں۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ گیند کے آخری مقام کو دیکھا جاتا ہے، مگر پچ ہونے کی جگہ نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ تیسری غلطی بلے اور پیڈ کے بیک وقت قریب آنے پر فوری نتیجہ نکالنا ہے، حالانکہ الٹرا ایج یا سلو موشن میں پہلے رابطے کا فرق سامنے آ سکتا ہے۔
ایک اور مسئلہ “بلے باز شاٹ کھیل رہا تھا یا نہیں” کے سوال سے پیدا ہوتا ہے۔ قانون میں شاٹ کھیلنے کی کوشش اور گیند چھوڑنے کے معاملے کی الگ اہمیت ہے، اس لیے بلے باز کا بیٹ نیچے لانا، جسم کو گیند کی طرف موڑنا یا گیند کو روکنے کی کوشش کرنا فیصلہ بدل سکتا ہے۔ یہاں کوئی ایک سادہ تصویری اصول کافی نہیں؛ امپائر کو حرکت، زاویہ اور رابطے کو اکٹھا دیکھنا ہوتا ہے۔
اگر ری پلے دستیاب نہ ہو تو فیصلہ کرنے کی ترتیب نہ توڑیں۔ پہلے نو بال، پھر بلہ، پھر پچ، پھر جسم اور آخر میں وکٹ کی لائن دیکھیں۔ اگر ویڈیو میں پچ کا مقام واضح نہ ہو، تو اسکور کارڈ کی عبارت، براہِ راست کمنٹری اور مقابلے کے سرکاری ضوابط مدد دے سکتے ہیں۔ ڈی آر ایس اور امپائر فیصلوں کی آسان وضاحت سے مزید مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔
کچھ کم معروف صورتیں بھی یاد رکھیں:
گیند بلے سے پہلے دستانے سے لگے تو معاملہ رابطے کی قانونی تشریح پر منحصر ہو سکتا ہے، کیونکہ دستانہ بلے کا حصہ نہیں ہوتا۔
نو بال پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا، چاہے گیند سیدھی اسٹمپ پر جا رہی ہو۔
گیند اگر آف اسٹمپ کے باہر پچ ہو اور بلے باز شاٹ کھیلنے کی کوشش نہ کرے تو اپیل عام طور پر ناکام رہتی ہے۔
“امپائرز کال” میں میدان کا فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے، چاہے ٹریکنگ کا کچھ حصہ اسٹمپ سے ملتا دکھائی دے۔
بیٹر کے قدم اور جسم کا مقام رابطے کے عین لمحے پر دیکھا جاتا ہے، بعد کی حرکت پر نہیں۔
ایل بی ڈبلیو قانون کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر فیصلے کو پانچ حصوں میں توڑا جائے: نو بال، بلے سے رابطہ، پچ کی جگہ، جسم کی لائن اور وکٹ کا ممکنہ راستہ۔ اس ترتیب سے دیکھنے پر جذباتی اپیل اور حقیقی قانونی بنیاد کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے۔ بیٹنگ نوٹس پر روزانہ میچ کوریج، پی ایس ایل کے فیصلے، بولنگ حکمت عملی اور کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اسی عملی انداز میں پیش کیے جاتے ہیں۔
آخری بات شاید تھوڑی سخت لگے، مگر درست ہے: صرف پیڈ پر گیند لگنے سے ایل بی ڈبلیو نہیں بنتا، اور صرف ڈی آر ایس گرافک دکھائی دینے سے ریویو درست نہیں ہو جاتا۔ قانون، زاویہ اور رابطے کی ترتیب تینوں کو ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ اگلی بار اپیل سنیں تو فوراً نتیجہ نہ نکالیں؛ پہلے پانچ سوالات پوچھیں، پھر فیصلہ کریں۔ یہی چھوٹی سی عادت کھیل کو زیادہ صاف اور تجزیے کو زیادہ مضبوط بنا دیتی ہے، یقین کریں، میں واقعی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کیا ہوتا ہے؟
جواب: ایل بی ڈبلیو اس وقت ہوتا ہے جب گیند بلے سے پہلے بلے باز کے جسم سے لگے اور امپائر کے مطابق گیند وکٹوں سے ٹکرا سکتی تھی۔ گیند نو بال نہیں ہونی چاہیے، اور اس کے پچ ہونے کی جگہ بھی قانون کے مطابق قابلِ قبول ہونی چاہیے۔ اگر گیند پہلے بلے سے لگ جائے تو پیڈ پر بعد کا رابطہ ایل بی ڈبلیو نہیں بناتا۔
سوال: ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہونے کی پانچ بنیادی شرائط کیا ہیں؟
جواب: بنیادی شرائط نو بال نہ ہونا، بلے سے پہلے جسم سے رابطہ، درست پچ کا مقام، وکٹ کی لائن میں جسم کا آنا، اور گیند کا وکٹوں کو لگنے کا امکان ہیں۔ ان میں سے ایک اہم شرط پوری نہ ہو تو آؤٹ کا فیصلہ ختم ہو سکتا ہے۔ اپیل بھی ضروری ہے، کیونکہ امپائر عموماً اپیل کے بغیر ایل بی ڈبلیو نہیں دیتا۔
سوال: آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں ہوتا؟
جواب: عام طور پر آف اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا، خاص طور پر جب بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہ کی ہو۔ یہ اصول بلے باز کو ایسی گیند چھوڑنے کا قانونی تحفظ دیتا ہے جو وکٹ سے باہر پچ ہوئی ہو۔ البتہ گیند کے پچ ہونے کی درست جگہ اور شاٹ کی کوشش دونوں ری پلے میں الگ جانچی جاتی ہیں۔
سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟
جواب: بولڈ میں گیند براہِ راست وکٹوں سے ٹکراتی ہے، جبکہ ایل بی ڈبلیو میں جسم گیند کو روکنے کے بعد ممکنہ وکٹ بچاتا ہے۔ بولڈ کے لیے پیڈ، جسم یا شاٹ کی قانونی شرائط درکار نہیں ہوتیں، مگر ایل بی ڈبلیو میں نو بال، پچ کا مقام اور پہلے رابطے کی جانچ لازمی ہے۔ اسی لیے ایک ہی گیند بولڈ کے بجائے ایل بی ڈبلیو یا ناٹ آؤٹ بن سکتی ہے۔
سوال: اگر گیند بیٹ اور پیڈ سے تقریباً ایک ساتھ لگے تو کیا ہوتا ہے؟
جواب: اگر گیند پہلے بلے سے لگی ہو تو ایل بی ڈبلیو نہیں ہوتا، چاہے رابطہ آنکھ کو بیک وقت دکھائی دے۔ تیسرے امپائر الٹرا ایج، سنکو میٹر، سلو موشن اور دیگر دستیاب شواہد دیکھتا ہے۔ جب ٹیکنالوجی واضح نہ ہو تو میدان کا فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے، جسے “امپائرز کال” کہا جاتا ہے۔
سوال: نو بال پر ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں دیا جاتا؟
جواب: نو بال پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ نو بال پہلے ہی فیلڈنگ ٹیم کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔ امپائر پہلے بولر کے اگلے پاؤں یا متعلقہ نو بال شرط کو دیکھتا ہے، پھر ایل بی ڈبلیو اپیل پر غور کرتا ہے۔ ایسی گیند پر بلے باز رنز بنا سکتا ہے، مگر ایل بی ڈبلیو کے ذریعے آؤٹ نہیں ہو سکتا۔
سوال: ایل بی ڈبلیو فیصلے کو خود کیسے جانچا جائے؟
جواب: پہلے نو بال، پھر بلے سے رابطہ، پچ کی جگہ، جسم کی پوزیشن اور وکٹ کی سمت کو اسی ترتیب سے جانچیں۔ ٹیلی ویژن ری پلے میں پہلے سامنے کا زاویہ، پھر الٹرا ایج اور آخر میں گیند کی ٹریکنگ دیکھیں۔ اگر پچ یا رابطے کی تصویر واضح نہ ہو تو سرکاری مقابلے کے ضوابط اور میریلیبون کرکٹ کلب کے قانون ۳۶ سے تصدیق کریں۔
کرکٹ کے بنیادی قوانین اور امپائرنگ اصطلاحات
پڑھنے کا شکریہ!
بیٹنگ نوٹس · The Midnight Archive · An Exhibition of Thought