مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون

کرکٹ امپائر کے اشارے: 12 اشارے 2026 میں

کرکٹ امپائر کے اشارے میدان میں فیصلے، گیند کی حیثیت اور رنز کی تعداد بتانے کا عالمی نظام ہیں۔ مرکزی امپائر، لیگ امپائر اور ٹی وی امپائر انہی حرکات کے ذریعے کھلاڑیوں، اسکورر اور تماشائیوں کو واضح اطلاع...

30 اکتوبر، 2026 5 min read
کرکٹ امپائر کے اشارے: 12 اشارے 2026 میں
❦

کرکٹ امپائر کے اشارے: 12 اشارے 2026 میں

کرکٹ امپائر کے اشارے میدان میں فیصلے، گیند کی حیثیت اور رنز کی تعداد بتانے کا عالمی نظام ہیں۔ مرکزی امپائر، لیگ امپائر اور ٹی وی امپائر انہی حرکات کے ذریعے کھلاڑیوں، اسکورر اور تماشائیوں کو واضح اطلاع دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بازو سیدھا اٹھانا آؤٹ، دونوں بازو پھیلانا وائیڈ، اور بازو کو افقی انداز میں لہرانا نو بال کی علامت ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں قوانین کی بنیادی نگرانی میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے ضابطوں کے مطابق ہوتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میں ایک اننگز کے 20 اوور، ایک روزہ میچ میں 50 اوور اور ٹیسٹ میں پانچ دن تک کا کھیل ان اشاروں کی اہمیت بڑھا دیتا ہے۔ میچ دیکھتے وقت پہلے نو بال، وائیڈ، آؤٹ اور باؤنڈری کے اشارے پہچاننے کی مشق کریں۔

A cricket umpire standing under bright stadium lights, raising one finger after a close wicket decision

فوری موازنہ

امپائر کا اشارہ ہاتھ یا بازو کی حرکت مطلب
آؤٹ ایک انگلی اوپر بلے باز آؤٹ
نو بال ایک بازو افقی انداز میں پھیلانا قانونی گیند نہیں
وائیڈ دونوں بازو کندھوں کی سطح پر پھیلانا وائیڈ گیند
چار رنز ایک بازو سینے کے سامنے گھمانا باؤنڈری، چار رنز
چھ رنز دونوں بازو سر کے اوپر اٹھانا باؤنڈری، چھ رنز
ڈیڈ بال کلائیوں کو کمر کے سامنے ملانا گیند کا کھیل ختم
بائی ایک کھلا ہاتھ سر کے اوپر اٹھانا بلے سے نہ لگنے والے رنز
لیگ بائی گھٹنے کو چھونا جسم سے لگنے والے رنز
ریویو ہاتھ سے مستطیل شکل بنانا فیصلہ دوبارہ دیکھنے کی درخواست

کرکٹ امپائر کے اشارے صرف رسمی حرکات نہیں بلکہ اسکورکارڈ کی درستگی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ایک ہی گیند پر نو بال کے ساتھ چوکا، بائی یا لیگ بائی بھی بن سکتی ہے، اس لیے اشارے کی ترتیب اور اسکورر کی تصدیق دونوں اہم رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر گیند باز کا پاؤں کریز سے آگے نکل جائے اور بلے باز گیند کو باؤنڈری تک پہنچا دے تو پہلے نو بال کا اشارہ دیا جاتا ہے، پھر چار رنز کا اشارہ؛ یوں مجموعہ پانچ رنز بنتا ہے۔ کرکٹ اسکورنگ کے بنیادی اصول پڑھنے سے اس فرق کو مزید آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ بیٹنگ نوٹس پر میچ جائزوں اور پی ایس ایل کوریج میں ایسے اشاروں کو اسکور، فیصلے اور حکمت عملی کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا خاصا مفید ہے۔

اس بنیادی نقشے کو محفوظ کرلیں، پھر میدان میں ہر فیصلہ فوراً پڑھنا آسان ہوگا۔

مزید جانیں

پہلا مرحلہ: بنیادی اشارے کیسے پہچانیں؟

آؤٹ کا فیصلہ ایک انگلی اوپر اٹھا کر، وائیڈ کے لیے دونوں بازو پھیلا کر، نو بال کے لیے ایک بازو افقی رکھ کر اور چھ رنز کے لیے دونوں بازو سر سے بلند کرکے بتایا جاتا ہے۔ یہ چار اشارے عام ناظر کے لیے سب سے اہم ہیں، کیونکہ ان کا تعلق براہ راست وکٹ، اضافی رنز اور گیند کی قانونی حیثیت سے ہے۔

امپائر کا اشارہ عموماً اس وقت آتا ہے جب گیند کا نتیجہ واضح ہو جائے، مگر ہر صورت میں فوراً انگلی اٹھانا ضروری نہیں۔ کیچ کے معاملے میں فیلڈر نے گیند زمین سے پہلے قابو کی یا نہیں، یہ دیکھنے کے لیے امپائر تصدیق کر سکتا ہے؛ اسی طرح رن آؤٹ میں کریز، بیلز اور گیند کے کنٹرول کو دیکھا جاتا ہے۔ میریلی بون کرکٹ کلب کے قوانین میں فیصلہ سازی کے لیے امپائر کے اختیار، اپیل اور گیند کے مردہ ہونے کی صورتیں الگ الگ بیان کی گئی ہیں۔ ایک مفید عملی نکتہ یہ ہے کہ آؤٹ کا اشارہ اپیل کے بغیر عام طور پر نہیں دیا جاتا، جبکہ نو بال اور وائیڈ امپائر خود بھی بتا سکتا ہے۔ اس فرق کو سمجھنے سے ٹی وی پر دکھائی جانے والی اپیل اور حتمی فیصلے میں الجھن کم ہوتی ہے۔

  • انگلی اوپر: آؤٹ
  • دونوں بازو پھیلے: وائیڈ
  • ایک بازو افقی: نو بال
  • دونوں بازو اوپر: چھ رنز
  • ایک بازو گھومے: چار رنز

Square-leg umpire signaling a no-ball beside the crease during a tense domestic cricket match

دوسرا مرحلہ: اضافی رنز اور گیند کا نتیجہ کیسے سمجھیں؟

اضافی رنز کے اشارے اس وقت استعمال ہوتے ہیں جب رنز بلے کے عام شاٹ سے نہ بنیں یا گیند قانونی نہ رہے۔ بائی کے لیے امپائر ایک کھلا ہاتھ سر کے اوپر اٹھاتا ہے، لیگ بائی کے لیے گھٹنے کو چھوتا ہے، جبکہ چار رنز کے لیے بازو کو سینے کے سامنے گھمایا جاتا ہے۔ یہ اشارے اسکورر کو بتاتے ہیں کہ رنز کس خانے میں درج کیے جائیں۔

یہاں ایک باریک مگر اہم فرق ہے: بائی وہ رنز ہیں جو گیند بلے یا بلے کو پکڑے ہوئے ہاتھ سے نہ لگنے کے بعد دوڑ کر بنیں، جبکہ لیگ بائی جسم کے کسی حصے سے لگنے کے بعد بنتی ہے، بشرطیکہ بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی ہو یا گیند سے بچنے کی جائز کوشش کی ہو۔ اگر وائیڈ گیند باؤنڈری تک چلی جائے تو پورے پانچ رنز وائیڈ میں شامل ہوتے ہیں؛ اگر نو بال باؤنڈری تک جائے تو نو بال کا ایک رن اور باؤنڈری کے چار رنز، یعنی مجموعی طور پر پانچ رنز درج ہوتے ہیں۔ یہی وہ عملی edge case ہے جسے کئی مختصر رہنما نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بائی اور لیگ بائی کی مکمل وضاحت اسکورر کے زاویے سے فرق واضح کرتی ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کے تیز کھیل میں ایک اضافی رن بھی آخری اوور کا ہدف بدل سکتا ہے۔

میریلی بون کرکٹ کلب کے قانون 23 کے مطابق ڈیڈ بال کے بعد اگلی کارروائی شروع ہونے سے پہلے امپائر کا اشارہ اہم رہتا ہے؛ اس لیے کھلاڑیوں کو صرف گیند دیکھ کر نہیں بلکہ امپائر کی آواز اور ہاتھ دونوں دیکھنے چاہییں۔ “امپائر کا فیصلہ کھیل کے نظم کا مرکزی حصہ ہے” — قوانین کا یہ بنیادی مفہوم اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب ایک ہی لمحے میں اپیل، رن اور ریویو اکٹھے سامنے آئیں۔ بیٹنگ نوٹس کی حکمت عملی تحریروں میں بھی اضافی رنز کو صرف اتفاق نہیں بلکہ بولر کے دباؤ، فیلڈ سیٹ اور شاٹ کے انتخاب سے جوڑنا زیادہ درست تجزیہ فراہم کرتا ہے۔

اپنی اسکورنگ سمجھ مضبوط بنانے کے لیے بائی، لیگ بائی اور نو بال کے فرق کو الگ الگ نوٹ کریں۔

مزید جانیں

تیسرا مرحلہ: ریویو، ڈیڈ بال اور باؤنڈری کے اشارے کیوں اہم ہیں؟

ریویو کا اشارہ دونوں ہاتھوں سے ہوا میں مستطیل شکل بنا کر دیا جاتا ہے، ڈیڈ بال کے لیے ہاتھ کمر کے سامنے ملائے جاتے ہیں، اور باؤنڈری کے اشارے رنز کی قسم بتاتے ہیں۔ ریویو کا مطلب خودکار طور پر فیصلہ بدلنا نہیں؛ ٹی وی امپائر دستیاب شواہد دیکھ کر فیصلہ برقرار رکھ سکتا ہے یا تبدیل کر سکتا ہے۔

جدید بین الاقوامی کرکٹ میں آئی سی سی کے کھیلنے کے ضوابط کے مطابق ریویو کا طریقہ مقابلے کے فارمیٹ اور مخصوص کھیلنے کی شرائط سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی میں ریویو کی تعداد، وقت اور استعمال کے قواعد ایک جیسے سمجھنا غلطی ہے؛ کسی سیریز کی سرکاری شرائط ہمیشہ آخری حوالہ ہوتی ہیں۔ ایک کم معروف مگر ضروری نکتہ یہ ہے کہ وائیڈ یا نو بال کا اشارہ ہونے کے باوجود گیند کے بعد ہونے والا رن آؤٹ یا کیچ بعض حالات میں الگ فیصلہ طلب کر سکتا ہے۔ اسی لیے ٹی وی امپائر پہلے گیند کی قانونی حیثیت اور پھر وکٹ کے واقعے کو دیکھتا ہے۔ “واضح اور قابل اعتماد شواہد کے بغیر میدان کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا جاتا” — ریویو نظام کی یہی احتیاط کھیل کے انصاف کو قائم رکھتی ہے۔

ڈیڈ بال کا اشارہ بھی کم اہم نہیں۔ اگر بلے باز کو شدید خلل پہنچے، امپائر کھیل روک دے، گیند خراب ہو یا کوئی غیر معمولی واقعہ ہو تو پچھلی گیند کا نتیجہ ہر بار معمول کے مطابق نہیں رہتا۔ فیلڈرز کے لیے بہترین عادت یہ ہے کہ اشارے کے بعد ہی گیند واپس کریں، اپیل ختم کریں اور اگلی گیند کے لیے پوزیشن لیں۔ ڈی آر ایس اور ٹی وی امپائر کے فیصلے اس عمل کو مثالوں کے ساتھ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہاں جلد بازی نقصان دیتی ہے؛ پہلے امپائر کا اشارہ پڑھیں، پھر اسکور یا فیصلے پر رائے بنائیں۔

Television umpire reviewing a close run-out with multiple camera angles inside a cricket broadcast booth

آخری اسکور اور کس ناظر کو کیا سمجھنا چاہیے؟

کرکٹ امپائر کے اشاروں میں سب سے پہلے آؤٹ، نو بال، وائیڈ، چار اور چھ رنز سیکھنے چاہییں؛ اس کے بعد بائی، لیگ بائی، ڈیڈ بال، ریویو اور باؤنڈری سے متعلق باریکیاں شامل کی جائیں۔ ایک عام تماشائی کے لیے پانچ بنیادی اشارے کافی آغاز ہیں، مگر اسکورر، کھلاڑی یا تجزیہ کار کو کم از کم نو اشارے الگ الگ پہچاننے چاہییں۔

ناظر یا کردار پہلے کن اشاروں پر توجہ دے اگلا مفید قدم
نیا تماشائی آؤٹ، وائیڈ، نو بال باؤنڈری اشارے سیکھیں
بیٹر نو بال، وائیڈ، ڈیڈ بال ریویو وقت سمجھیں
بولر نو بال، ڈیڈ بال، آؤٹ قانونی گیندوں کا حساب رکھیں
اسکورر تمام اضافی رنز اشارہ اور آواز دونوں درج کریں
تجزیہ کار ریویو، باؤنڈری، لیگ بائی کھیلنے کی شرائط پڑھیں

2026 کے بڑے مقابلوں، پاکستان کی دو طرفہ سیریز، پی ایس ایل اور آئی سی سی ٹورنامنٹس میں نشریاتی گرافکس مدد دیتے ہیں، لیکن وہ امپائر کے اصل اشارے کا متبادل نہیں۔ بعض اوقات اسکرین پر “اضافی رنز” کا مجموعہ فوراً نظر آتا ہے، مگر وائیڈ، نو بال، بائی اور لیگ بائی کی تقسیم صرف تفصیلی اسکورکارڈ سے معلوم ہوتی ہے۔ اسی لیے میچ کے فیصلے کا درست تجزیہ کرتے وقت اوور نمبر، گیند کی قانونی حیثیت، اپیل اور امپائر کا اشارہ چار الگ چیزیں سمجھیں۔ بیٹنگ نوٹس پر روزانہ کے میچ جائزے، کھلاڑیوں کے اعداد و شمار اور باؤلنگ حکمت عملی اسی مکمل تناظر میں زیادہ قابل اعتماد بنتے ہیں۔

عملی طور پر یہ ترتیب اپنائیں:

  1. پہلے امپائر کے ہاتھ دیکھیں۔
  2. پھر گیند کی قانونی حیثیت نوٹ کریں۔
  3. اس کے بعد وکٹ، رنز یا باؤنڈری کا نتیجہ دیکھیں۔
  4. آخر میں اسکورکارڈ سے تصدیق کریں۔

یہ طریقہ معمولی لگتا ہے، مگر غلط فہمی سے بچاتا ہے؛ یقین کیجیے، واقعی ایسا ہی ہے۔

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ امپائر کا ایک انگلی اوپر اٹھانا کیا ظاہر کرتا ہے؟

جواب: ایک انگلی اوپر اٹھانے کا مطلب عموماً بلے باز آؤٹ ہے۔ یہ اشارہ کیچ، ایل بی ڈبلیو، بولڈ، اسٹمپنگ یا رن آؤٹ کے بعد دیا جا سکتا ہے، مگر متعلقہ واقعے کے مطابق امپائر پہلے اپیل یا دوسرے امپائر کی مدد دیکھ سکتا ہے۔ آؤٹ کا فیصلہ اسکورکارڈ میں وکٹ کے طور پر درج ہوتا ہے، جبکہ نو بال پر ہونے والی بعض وکٹیں قوانین کے تحت قابل قبول نہیں ہوتیں۔

سوال: نو بال اور وائیڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: نو بال عموماً غلط قدم، غیر قانونی گیند یا مقررہ پابندی کی خلاف ورزی سے بنتی ہے، جبکہ وائیڈ گیند بلے باز کی معمول کی پہنچ سے باہر گزرنے پر دی جاتی ہے۔ دونوں میں ایک اضافی رن ملتا ہے اور قانونی گیندوں کی گنتی متاثر ہوتی ہے۔ نو بال پر بعض فارمیٹس میں فری ہٹ بھی مل سکتی ہے، مگر اس کی تصدیق متعلقہ مقابلے کی کھیلنے کی شرائط سے کریں۔

سوال: چار اور چھ رنز کے اشارے کیسے پہچانیں؟

جواب: چار رنز کے لیے امپائر ایک بازو کو جسم کے سامنے گھماتا ہے، جبکہ چھ رنز کے لیے دونوں بازو سر کے اوپر اٹھاتا ہے۔ زمین کو چھو کر باؤنڈری پار ہونے والی گیند چار اور ہوا میں براہ راست باؤنڈری پار کرنے والی گیند چھ ہوتی ہے۔ اگر فیلڈر کا جسم یا قدم باؤنڈری سے رابطے میں ہو تو فیصلہ ویڈیو ریویو سے بھی جانچا جا سکتا ہے۔

سوال: بائی اور لیگ بائی کا اشارہ کیا ہے؟

جواب: بائی کے لیے ایک کھلا ہاتھ سر کے اوپر اٹھایا جاتا ہے، جبکہ لیگ بائی کے لیے امپائر گھٹنے کو چھوتا ہے۔ بائی اس وقت بنتی ہے جب گیند بلے یا بلے کو پکڑے ہاتھ سے نہ لگے، اور لیگ بائی جسم سے لگنے کے بعد مخصوص شرائط پوری ہونے پر دی جاتی ہے۔ دونوں رنز بلے باز کے ذاتی اسکور میں شامل نہیں ہوتے، مگر ٹیم کے مجموعے میں شامل رہتے ہیں۔

سوال: امپائر ڈیڈ بال کا اشارہ کب دیتا ہے؟

جواب: ڈیڈ بال کا اشارہ اس وقت دیا جاتا ہے جب گیند کا کھیل ختم ہو جائے یا کھیل جاری رکھنا مناسب نہ رہے۔ شدید خلل، امپائر کا کھیل روکنا، گیند کا خراب ہونا یا غیر معمولی واقعہ اس کی عام مثالیں ہیں۔ ڈیڈ بال کے بعد رنز، وکٹ یا اپیل کا اثر واقعے کے وقت اور سرکاری کھیلنے کی شرائط پر منحصر ہو سکتا ہے، اس لیے صرف ٹی وی گرافک پر بھروسا نہ کریں۔

سوال: ڈی آر ایس ریویو کا اشارہ کیسے کیا جاتا ہے؟

جواب: ریویو کے لیے امپائر دونوں ہاتھوں سے ہوا میں مستطیل شکل بناتا ہے۔ میدان کی ٹیم مقررہ وقت کے اندر ریویو کا اشارہ دے سکتی ہے، پھر ٹی وی امپائر دستیاب شواہد، کیمرہ زاویوں اور متعلقہ ٹیکنالوجی کا جائزہ لیتا ہے۔ ہر فارمیٹ میں ریویو کی تعداد اور طریقہ مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے 2026 کے مخصوص ٹورنامنٹ کی سرکاری شرائط دیکھنا زیادہ محفوظ ہے۔

کرکٹ امپائر کے اشارے سمجھنے کے بعد میچ دیکھنا محض تماشہ نہیں رہتا؛ ہر وائیڈ، نو بال، اپیل اور ریویو کے پیچھے موجود حساب بھی صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ مزید عملی مثالوں، پی ایس ایل کوریج اور کھلاڑیوں کے اعداد و شمار کے لیے بیٹنگ نوٹس کے کرکٹ مضامین دیکھیں۔

مزید مکمل کرکٹ بصیرت کے لیے یہاں سے آغاز کریں۔

مزید جانیں

§
❦

بیٹنگ نوٹس · The Midnight Archive · An Exhibition of Thought

متعلقہ مضامین